Tuesday, July 27, 2021

marfat

 اگر انسان خود کو ہی پہچان لے تو یہ بڑی کامیابی ہے

اور عرفان کی راہ ملجاتی ہے وہ تو تمہاری رگ گردن سے قریب ہے

تم شعوری کو شش سے اسکے کتنے قریب ہوئے یہ اہم ہے

Wednesday, January 23, 2019

What you don't have now will be given to you when ALLAH,the all knowing, deems it fit for you.

Tuesday, April 15, 2014

In the court of ALLAH

ہم  جب بھی کوئی لفظ ادا کریں  تو یہ سونچ کر مونہ  سے نکلیں  کہ  یہ ہوا میں  تحلیل نہیں ہوجانے گا ، اسکے اثرات بھی ہونگے اور  یہ محفوظ بھی رہیگا  اور فیصلہ کن وقت پر پلت کر بھی آیگا . غور کریں تو خود آپکی زندگی میں کوئی ایک لمحہ ضرور ہوگا جس نے آپکو خود آپکی نظروں میں حقیر  کر دیا ہوگا اور بیساختہ  آپنے  کہا ہوگا کاش میں خاموش رہتا .

یہ ہماری آپس کی بات ہے جب کہ  لوگوں کی رسائی صرف الفاظ تک ہے اور وہ ہماری نیت پر صرف شک کرسکتے ہیں اب غور کیجئیے  کے اس کی بارگاہ میں کتنا  محتاط ہونا چاہئیے جو دل کی نیت سے بھی پوری طرح آگاہ ہو .

سورتہ 'حمد  کے بغیر نماز نہیں ہوسکتی یہ سبکو معلوم ہے ، جب دعا کی منزل آتی ہے اور ہم کہتے ہیں  "إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ" تو سونچ کر اور  دل پر ہاتھ رکھکر بتائیے کہ ہمارے الفاظ کتنے خالص ہوتے ہیں . یقیناً  ہم پر خلوص  ہوتے ہیں جب کہتے ہیں کہ  بس ہم تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں کیونکیہ ہم مشرک نہیں ہیں  لیکن ہمارا یہ کہنا کہ  بس ہم تیری ہی عبادت  کرتے ہیں حقیقت سے دور ہے . 
عبادت ' کے 'لفظ کو سمجھنا ہوگا .
رسول الله  کی شان اور مرتبہ یہ ہے کے وہ الله کے عبد ہیں اور  نطق  تک نہیں کرتے الله کی وحی اور  مرضی کے بغیر اب وحی  کا دروازہ  بند ہوگیا  مگر رضاے  الہی کا دروازہ  کھلا  ہوا ہے .
 ٹھنڈے دل سے غور کر کے فیصلہ کیجئے کے ہم کتنے سچے  ہیں جب کہتے ہیں "بس ہم تیری ہی مرضی پر چلتے  ہیں " .
یا الله ہماری مدد فرما. .....آمین

Monday, October 14, 2013

duaa

 تیری  مدد  کب  آیگی  بس اب آسانیوں  کے  دروازے  کھول دے  تجھے  اپنی  رحمانیت  کا واسطہ ، کہیں گھبراھٹ  اور  نادانی میں اپنا  مزید  نقصان نہ  کر بیٹھوں  میری  مدد  فرما

Tuesday, August 6, 2013

قرآن بیان کرتا ہے کہ ’’لیلۃالقدر میں ملائکہ زمین پر اترتے ہیں ‘‘
تفسیر کرنے والے بیان کرتے ہیں کہ فرشتے اللہ کا امر لیکر زمین پرہر طرف پھیل جاتے ہیں, شجر ھجر پہاڑ دریا ہر شیئ تک اللہ کا امر پہنچاتے ہیں, مفسّر ہر مخلوق کا ذکر کرتے ہیں
مگر اشرف المخلوقات کا کوئی ذکر نہیں ۔
کیا اللہ انسان کیلئے کوئی امر نہیں بھیجتا ؟
اج تک کسی انسان نے یہ اعلان نہیں کیا کہ فرشتہ شب قدر میں اسکے پاس آیا تھا!!
نہ عشرئہ مبشّرہ میں سے کسی نے نہ انکے بعد کسی نے, دیگر مذاھب کے ماننے والوںکاتوذکر ہی کیا ۔۔۔ توکیا آجتک کسی انسان کے پاس فرشتہ نہیں آیا ۔ آیا ہوتا تو مفسّر چپ نہ رہتا!
فرشتے نازل ہوتے ہیں اور بالیقین نازل ہوتے ہیں مگر ہما شما پر نہیں۔
دلوں کو تعصّب سے پاک کر کے سنو
فرشتے شب قدر میں ’کُل امر ‘ لیکر اللہ کی حجّت ’ صاحب امر ‘ پر نازل ہوتے ہیں
1

اللہ کے رسولؐ کے پردہ فرمانے کے بعد صرف علی ؑ اور اولاد علیؑ نے قرآن کی صداقت کو دلیل دینے کے لیئے یہ اعلان کیا کہ شب قدر میں فرشتوں کے نازل ہونے کا مر کز ہم ہیں ۔
العظمت للہ !

Sunday, August 4, 2013

گر قبول افتد ۔۔۔۔
قافیوں, ردیفوں,دور کی کوڑیوں,طبع زاد تفسیروں,منبر سے لچھّے دار بیانوں ۔۔۔۔ کے چٹخارے
نفس کو خوش کر سکتے ہیں معصومین کو نہیں ۔
بارگاہ ایزدی اور بارگاہ رسالت و امامت میں قبولیت
صرف
عمل کی ہے یا عمل پرور الفاظ کی
فریب سے بچو!!

Saturday, August 3, 2013

امام اور بھی مشہور ہیں
مگر علیؑ اور اولاد علیؑ وہ آئمہ ہیں جنکی خبر صاحب وحی نے دی
اور یہ تصدیق کی کہ یہ جنّت کی طرف ہدایت کرتے ہیں
لوگ شکایت کرتے ہیں کہ حدیث ’بابِ علم‘مکمل بیان نہی کی جاتی
اور ’چھت کھڑکی وغیرہ‘ کا تذکرہ نہیں کیا جاتا
واضح رہے کہ یہ الفاظ متن ح دیث کا حصہ نہیں ہیں اور مشکوۃٰ میں شرح حدیث کا حصّہ ہیں

لیکن شکایت پھر بھی بجا ہے 
حدیث کے آخری الفاظ ہیں ’’ من ارادالعلم فلیا ت الباب ‘‘ جوبیان نہیں کیئے جاتے۔
جو علم حاصل کرنا چاہے وہ شہر کے ’’دروازہِ ‘‘ سے آئے۰
رات پھر رات ہے خواہ وہ شب قدرہی ہو۔۔۔۔۔۔ اللہ کی مخلوقات میں سے ایک
پھر وہ دن کیسا با فضیلت ہو گا جس دن ’دین‘ کامل ہوگیا اور اللہ اپنے حبیبﷺ کیلیئےاسلام پر راضی ہوگیا
دن ہو یا رات یہ انسان سے افضل نہیں!
انسان اشرف المخلوقات ہے !!
اب تعصّب سے پاک ہوکر سوچو
وہ انسان اللہ کی نگاہ میں کس درجہ پر ہوگا جس پر شب قدر میں قرآن نازل ہوا
اور وہ انسان اللہ کی نگاہ میں کس درجہ پر ہوگا کہ’پالان شتر کے منبر‘ والے ’’دن ‘‘جسکی ولایت کے اعلان کے بعد ۔۔۔ دین کامل ہو گیا ۔۔ اللہ راضی ہو گیا !!!
اب سوچو کہ ہم میں کتنی صلا حیّت ہے کہ اللہ نے ہمیں محمدﷺ اور علیؑ کی پیروی کاحکم دیا ہے ۔۔۔ ال عظمت لل
اللہ کسی پر اس کی وسعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا ہے  ۔۔۔۔ قرآن
اللہ کے اخلاق کو اپنائو  ۔۔۔۔۔   حدیث
تمہارے لیئےرسول کی ذات میں بہترین نمونئہ عمل ہے   ۔۔۔۔   قرآن

انسان کے نفس میں کتنی وسعت ہے کہ وہ اللہ اور رسول دونوں کی صفات کو اپنا سکتا ہے !!
جس نے صفات کو اپنانے کا حق ادا کیا ۔۔۔ وہ  ’  علی  ‘  بن گیا  (ع)
تم بھی کوشش کرو اور سلمانؓ اور ابو ذر ؓ بن جائو ۔

Tuesday, April 16, 2013

رشتوں کی نسبتوں سے نہ صرف انکوؑ جانیئے
انکیؑ صفات پیشِ نظر رکھ کے مانیئے
یکتا ہیں مثل ذات احد اپنی ذات میں
یہ فاطمہؑ ہیں فاطمہؑ ہیں کلُ صفات میں

Wednesday, December 26, 2012

ALLAH is gracious

ALLAH s.w.t is so gracious and open and welcoming that HE has invited people ,through HIS prophet Mohammad s.a.w.a.w. , to acquire HIS attributes (save tauheed)and HAS set a practical example in the personality of HIS last prophet .
HE ackowledeges the actions ,even the words , of the faithful on a grand scale and has preserved them in the last revelation, HIS QURA'N , .
HIS decisive policy " ALLAH ACCEPTS ONLY FROM MUTTAQEEN " is not in HIS words but is in THE words uttered by Hazrat Habeel a.s. .....SubhanALLAH

سچ اور حق

ضروری نہیں کہ جو ’ سچ ‘ ہو وہ ’ حق ‘ بھی ہو
مگر ’ حق ‘ لازمی ’سچ ‘ ہوتا ہے
یہ سچ ہے کہ بعد رسول اکرمؐ کئی لوگ منبر رسول پر بیٹھے
مگرہر کوئی حق پر نہیں تھا اور نہ ہر کسی کا یہ حق تھا
لوگ مانتے ہیں کہ ’سچ ‘ سب کا جدا جدا ہوتا ہے
مگر
کؤی مانے نہ مانے ’ حق ‘ ایک ہی ہو تا ہے
’’ علیّ مع الحق والحقّ مع العلی ‘‘۰۰۰۰فرمان رسول اللہ

یہ سچ ہے کہ ہندہ  جگر خوارہ  اور معاویّہ ابن ابی سفیان کے بیٹے  یزید علیہم وعلیہمالّعن نے
رسول اللہ کے نواسہ حسینٔ ابن علیٔ ابن ابیطالب علیہ و علیہمالسلام کو  بیگناہ قتل کیا اور اہلبیتٔ کی بازاروں اور درباروں میں تحقیر کی مگر سب مانتے ہیں کہ  حسینٔ  حق  پر تھے ۔

Tuesday, December 18, 2012


حیلے بہانے کمزور کا کند ہتھیار اور اضافی بوجھ ہیں ۔ بہادر بنو اور  اخلاص کے ساتھ حقیقت کا اعتراف کرلو , آئینہ جھوٹ نہیں بولتا ۔
سدھار کی کوشش کا نتیجہ ۱۰۰ فی صد ہو نہیں سکتا اگر غلطی اور کوتاہی  کا اعتراف ۱۰۰ فی نہیں ۔
مجھسے بہترصرف اللہ میرے عیوب سے واقف ہے۔
جتنا عیب اور نقص  باقی رہیگا کوشش کے پھل کی مٹھاس اتنی ہی کم ہو گی,
ہاں مگر  جس پر رحمٰن اور رحیم اللہ اپنا فضل اور احسان فرما دے ۔

Sunday, December 16, 2012

کسی کیلیئے بھی کوئی حتمی بات نہیں کہی جاسکتی , صرف رجہانات کے بارے میں اظہار کیا جاسکتا ہے ۔ کانوں سنا اور آنکھوں دیکھا بھی دھوکہ ہو سکتا ہے حقیقت سے بالکل جدا کیونکہ محدود صلاحیّت مکمّل فیصلہ نہیں کرسکتی ۔اسلیئے اپنے تنازع میں خود قاضی نہ بنو , بہتر یہ ہے کہ معاملہ اللہ کے سپرد کردو , اگر تم قصور وار ہو تو سزا جرم کے مساوی ہوگی اور معافی کی مہلت بھی مل سکتی ہے , اور اگر تم بے قصور ہو تودرجات کی بلندی کیساتھ اللہ کا فضل اور احسان تمہارے شامل حال ہوگ

LESS FORTUNATE

Less Fortunate
some people look down 0n people who struggle and survive in the native land and label them as " poor less fortunate people " . They express " why they don't take a wise decision like us ?" . Every decision has a ' cost ' . Every decision is based on' an 'objective ' . Setting objectives primarily and essentially calls for ' vision ' . Vision is nothing but "success strategy ' and success is always with a reference / direction and a scale .
Donot look down on others unless you have verified answers ,and even if you have all the answers in your favour DONOT LOOK DOWN ON OTHERS PROSTRATE AND THANK THE ALMIGHTY ALLAH......

Friday, December 14, 2012


یا اللہ ہمیں تعصّب سے  پاک  کردے ۔ ہماراعصبیّت ذدہ ذہن ہمیں  قرآن اور  حدیث  کے حقیقی مطالب تک پہنچنے نہیں دیتا ۔ دو قاری ایک ہی آیت پڑھ کر دو مختلف نتیجے نکالتے ہیں اور اصرار کرتے ہیں کہ دوسرے کا اخذ شدہ نتیجہ غلط ہے, مذاکرات میں ہٹ دھرمی کا مظاہر کرتے ہیں, اپنی دلیل کو حرف آخر  سمجھتے ہیں ۔ دوسرے کی دلیل کو صرف اس لیئے نہیں مانتے کہ مان لینے سے ان کے بزرگوں کا دین پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے ۔
یوم حشر کوئی کسی کا وکیل نہیں بن سکے گا ہر کسی کو  اپنا مقدّمہ خود لڑنا ہو گا ۔
ابھی مہلت ہے, تعصّب سے پاک ہو کر تیّاری کرلو ۔
ظاہری نبیﷺ نے تو پرردہ فرمالیا گر باطنی نبی( عقل ) ہدایت کے لیئے حاضر ہے ۔
وحی کا دروازہ بند ہوگیا ہے ہدایت کا نہیں ۔۔۔۔۔
یا اللہ ہمیں ہلاک ہونے سے بچالے , تعصّب سے پاک کردے ۔۔۔۔۔ آمین

Thursday, December 13, 2012


کوئی بھی عمل یا سونچ صرف اس لیئے نہ کرو یا اپنائو کہہ تہارے  والدین ویسا کرتے یا سونچتے ہیں, قرآن اس رویّہ کو  رد کرتا ہے۔
قرآن چاہتا ہے کہ  مومن جو بھی عمل کرے ( ادائے واجبات بھی ) وہ خوب سونچ  سمجھ کر ادا کرے کیونکہ وہ ہر عمل اور سینہ میں پوشیدہ ہر خیال کے لیئے اللہ کی بارگاہ میں جوابدہ ہے۔
     اپنے اپکو مسلمان سمجھتے ہوئے قرآن  نہ پڑھو بلکہ قرآن پڑھتے ہوئے اپنا تجزیہ (کریٹیکل اینالسز)  کرتے جائو تاکہ خودتمہارا نفس  مطمئن ہو کر تصدیق کرے کہ تم قرآن کی نگاہ میں مسلمان ہو۔
 اگر اسلام ثابت ہو گیا تو دراجات ایمان تقویٰ کا تاج سر پہ سجا دینگے اور ممکن ہے کہ تم بھی پورے اعتماد کیساتھ کہ سکو  ’ربّ ِ کعبہ کی قسم میں کامیاب ہو گیا ‘۰

Friday, December 7, 2012


اے کربلاء کے عظیم شہید  حسینٔ مدد
مجھ جیسے ناچیز کی آپ بیتی بھی لکھّی جارہی ہے
لکھنے والے بڑے باریک بین ہیں,  چھوٹی سی بات کی بھی پوری تفصیل لکھ رہے  ہیں
جو میں چھپانا چاہتا ہوں وہ بھی اور  جو میرے دل میں کبھی تھا یا اب ہے وہ  بھی۔
وہ میر ے منع کرنیسے رکتے نہیں, کہتے ہیں  ایک دن یہ کتاب  تمہارے ہا تھوں میں ہوگی پھر جو چاہو کر لینا۔
آپٔ میری مدد  فر مایئے اور اللہ کی بار گاہ سے وہی  جذبہ اور  یقین دلوا دیجیئے جو آپکے  اصحاب میں تھا تاکہ میں رک جائوں ایسے اعمال سے  جنہیں میں چھپانا چاہوں۔
مجھے بھی  حُر بنّے میں مدد کیجیئے۔مجھے بھی  معرفت رب کا پانی پلا دیجیئے۔
المدد   المدد۰